ایتھلیٹکس دوڑ اور دلچسپ حقائق

جس طرح میدان کرتے کھیلوں میں اتھلیٹکس (ٹریک اینڈ...

بیڈمنٹن کے متعلق دلچسپ حقائق

بیڈمنٹن ایک بازوکشی کھیل ہے جس کے دو کھلاڑی...

فٹبال: قواعد، رینکنگز، اور مزید

باہری دنیا میں فٹبال دنیا بھر میں بہت مقبول...

ایتھلیٹکس دوڑ اور دلچسپ حقائق

جس طرح میدان کرتے کھیلوں میں اتھلیٹکس (ٹریک اینڈ فیلڈ) بھی اہم کھیلوں میں سے ایک ہے، اس کی شہرت مختلف ملکوں میں فیروز ہے۔ یہ ایک ذرائع کھیل ہے جس میں مختلف آزمائشوں پر بنیادی چالوں پر دوڑا جاتا ہے۔ ان دوڑوں میں ہر کھلاڑی کی مقابلے کی تیاری کرنی ہوتی ہے۔

ٹریک اینڈ فیلڈ کے میدان کے ساتھ متعلق قوانین اور ضوابط متعدد ہیں۔ یہ مختلف اجزاء کے ساتھ دوڑے کی تیاری کے لئے مشتمل ہوتے ہیں۔ یہ اجزاء ہیں: دوڑ، لمبائی پر دوڑ، قد، جمع، اور طواف۔

دوڑ میں، دو کھلاڑیوں کو مختلف فاصلوں پر دوڑایا جاتا ہے، جیسے 100 میٹر، 200 میٹر، 400 میٹر، وغیرہ۔ لمبائی پر دوڑ میں، کھلاڑیوں کو ایک مخصوص فاصلے پر دوڑایا جاتا ہے اور قد میں، کھلاڑی کو ایک مخصوص فاصلے پر ایک فیت کو چھونا ہوتا ہے۔

جمع میں، کھلاڑی کو چھالے کی تیاری کرنی ہوتی ہے اور طواف میں، کھلاڑی کو مخصوص دائرے پر دوڑایا جاتا ہے۔

اتھلیٹکس (ٹریک اینڈ فیلڈ) کی رینکنگ مختلف آزمائشوں پر منحصر ہوتی ہے۔ آزمائشوں کے نتائج کو دوبارہ تعیین کرنے کیلئے ایک پوائنٹ سسٹم کا استعمال کیا جاتا ہے۔

دوڑ میں، میدان میں سفر کرنے والے کھلاڑی کے وقت کو قابل قدر سمجھا جاتا ہے۔ یعنی، جتنا کہ کھلاڑی جلدی سے دوڑ کرے، اتنا زیادہ وقت ملے گا۔

اتھلیٹکس (ٹریک اینڈ فیلڈ) کے بارے میں دلچسپ حقائق کچھ یوں ہیں

دورانیہ: بھارت کے اتھلیٹ ملکہ PT Usha نے 1984 کے لس اینجلس المپکس میں 400 میٹر کی آڑ میں 55.42 سیکنڈ کی دورانیہ کے ساتھ فائزہ حاصل کیا تھا۔ اس دورانیے کو کوئی بھی انڈور اتھلیٹکس مقابلے میں نہیں توڑ پاسا۔

سابقہ ریکارڈ: جنوبی افریقہ کے ہاردلر رینولدز نے 1992 میں المپکس میں 400 میٹر ہرڈلز کی ریکارڈ بنانے کے لئے 46.78 سیکنڈ کے دورانیے میں اڑائی کریں تھے۔ یہ ریکارڈ 28 سالوں تک قائم رہا۔

چمکیلی کیلے: ایک اور دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ اس کھیل کے کچھ کھلاڑیوں نے چمکیلے کے چھلکے کو اپنے جوتوں میں رکھ کر دوڑ لگائی تاکہ وہ چمکتے جوتوں کے ساتھ دوڑ کر مخصوص طور پر نظریں اٹرائیں۔

فلپ فلپ: فلپ فلپ ٹیکنیک ایک انوکھی تکنیک ہے جس میں دوڑنے والا اپنے جسم کے جھکاؤ کو استعمال کرتا ہے۔ اس کے نام کو فلپ فلپ سے یوں رکھا گیا کہ یہ جسم کو آگے بڑھانے کے لئے مانچ لے جاتا ہ

متحرک نشانے: دوڑنے والے کے پیچھے لگے نشانے کو دھکیل دینے سے 10 فیصد جرمانہ کاٹا جاتا ہے۔ اگر پہلے 10 فیصد میں کوئی شکار نہیں کیا جاتا ہے تو اگلے 10 فیصد سے جرمانہ کاٹا جاتا ہے۔

سپر ہیروز: ایک سپر ہیرو اتھلیٹ، جیمز کارتر، نے 2008 کے بیجنگ المپکس میں 100 میٹر کے دوڑ میں فائز ہونے کے بعد آنکھوں کے سامنے کیمرے کے لئے پوز پوز کر دیں۔ اس پوز کی وجہ سے وہ “بولٹن مین” اسکریبنڈلی کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔

ایک نئی مصنوعی زمین: پردیس میں ہونے والے بہت سارے بین الاقوامی مقابلوں کے بعد، بین الاقوامی اتحاد نے مصنوعی زمین کی معیار کو بہتر بنانے کے لئے ایک نئی زمین بنانے کا فیصلہ کیا۔ یہ زمین اتحاد کے ہدف کے تحت طاقتور، بہترین پیداوار، اور کم ٹریفک نفوذ کرنے والی ہے۔

لاکھوں کے سامنے دوڑ: ایک دوڑ جو دنیا بھر میں لاکھوں لوگ دیکھتے ہیں، وہ ہے اولمپکس کا 100 میٹر کا دوڑ۔ اس دوڑ میں تاریخ کی بہت سی شخصیات نے شرکت کی ہیں، جن میں افریقہ کے یوسین بولٹ، کنیا کے کیپچوگی، امریکہ کے کارل لیویس، اور جامائیکہ کے یوسین بولٹ شامل ہیں۔

جنون کا دور: پہلے سترہویں صدی کے اولمپکس میں، دوڑنے والوں کو انتہائی جنونی ہونے کی وجہ سے نظرانداز کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن اب دنیا بھر میں اتحادوں نے اتحادی اختیارات کے تحت ہدایات جاری کی ہیں جن کے تحت اس جنون کے دور کو پیریڈ کے دوران پیدا کرنے سے روکا جاتا ہے۔

بے رقم رکارڈ: 1988 کے سول المپکس میں، کینیائی دوڑنے والا بیزہت کیکی پارکر میں نیچے ٹیلیویژن کے سامنے اور نقصان پذیر تائیدہ کردہ نشانوں کے بغیر 400 میٹر کے دوڑ کو پورا کرتے دکھایا۔ لیکن اس دوڑ کا کوئی ذمہ دار نہیں ہے کیونکہ اسے شرکت کرنے والے اسٹیڈیم سے

error: Content is protected !!